
لاہور، 31 اگست 2026 (کامران راجہ): لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت غیر قانونی ہے اور مبینہ کم عمری کی شادی کے معاملے میں سامنے آنے والے نئے شواہد کی بنیاد پر پولیس کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ جسٹس منور اقبال ڈوگر نے شہری محمد اسلم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار نے اپنی کم عمر بیٹی حنا اسلم کے مبینہ شوہر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ نکاح کے وقت حنا کی عمر تقریباً 15 سال تھی۔ درخواست گزار کے مطابق اس کی بیٹی کے مبینہ اغوا کا مقدمہ پہلے ہی درج ہو چکا تھا، تاہم کم عمری کی شادی سے متعلق سامنے آنے والے نئے شواہد نے ملوث افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی ضرورت پیدا کر دی۔عدالت عالیہ نے جسٹس آف پیس کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کی گئی تھی اور پولیس کو نئے شواہد کی قانون کے مطابق تحقیقات کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے حکم دیا کہ تحقیقات کے ذریعے یہ تعین کیا جائے کہ آیا کوئی قابلِ سزا جرم سرزد ہوا ہے، اور اگر ایسا ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
عدالت نے حنا اسلم کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی تحویل میں دینے کی بھی ہدایت کی اور متعلقہ حکام کو اس کی حفاظت، فلاح و بہبود اور بہترین مفاد کو ترجیح دینے کا حکم دیا۔ تحریری فیصلے میں قرار دیا گیا کہ بچے کی خواہشات اہم ہوتی ہیں، تاہم کم عمری کے پیش نظر ان خواہشات کو خودبخود حتمی فیصلہ کن حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ کم عمری کی شادی کے خلاف قوانین کا بنیادی مقصد بچوں کے حقوق، تحفظ، سلامتی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ اداروں کو حنا اسلم کو فوری تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی۔ عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ درخواست گزار اپنی بیٹی کے مبینہ اغوا کے حوالے سے پہلے ہی ایف آئی آر درج کرا چکا ہے، تاہم کم عمری کی شادی سے متعلق نئے شواہد سامنے آنے کی صورت میں نئی ایف آئی آر بھی درج کی جا سکتی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انور حسین عدالت میں پیش ہوئے۔