Saturday, September 12

غزہ پر بننے والی دستاویزی فلم ’نازا‘ کو وینس فلم فیسٹیول میں 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد

Gaza Documentary ‘NAZA’ Receives 25-Minute Standing Ovation at Venice Film Festival

وینس، 12 ستمبر 2026 (نوشین): غزہ کی صورتحال پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’نازا‘ کو وینس فلم فیسٹیول میں شاندار پذیرائی حاصل ہوئی، جہاں فلم کی نمائش کے بعد ناظرین نے تقریباً 25 منٹ تک کھڑے ہو کر فلم سازوں کو داد دی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ فیسٹیول کی تاریخ میں طویل ترین اسٹینڈنگ اوویشنز میں سے ایک ہے۔ تقریباً 80 منٹ دورانیے کی اس دستاویزی فلم میں غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا گیا ہے، جبکہ فلم میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نظام استعمال کیے گئے۔ فلم اسرائیلی صحافیوں یووال ابراہم اور ریچل زور نے بنائی ہے، جنہوں نے اس سے قبل 2025 میں دستاویزی فلم ’نو ادر لینڈ‘ پر آسکر ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ ’نازا‘ کی تیاری میں تقریباً تین سال کی تحقیق شامل رہی اور فلم میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے منسلک بعض ذرائع کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فلم سازوں سے گفتگو کی۔ ان افراد کی شناخت چھپانے کے لیے ان کے چہروں اور آوازوں کو ڈیجیٹل طور پر تبدیل کیا گیا، جبکہ بعض انٹرویوز تل ابیب میں عمارتوں کی چھتوں پر رات کے وقت ریکارڈ کیے گئے۔ فلم سازوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق گواہی اس امید کے ساتھ پیش کی ہے کہ ناظرین اس مسئلے پر غور کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ’نازا‘ وینس فلم فیسٹیول کے اعلیٰ ترین اعزاز گولڈن لائن کے لیے بھی مقابلے میں شامل ہے اور فلم کو ملنے والی غیر معمولی پذیرائی کے بعد اسے فیسٹیول کے بڑے انعام کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ جیوری کرے گی۔