Friday, July 31

غزہ امن منصوبے پر پیش رفت کا پاکستان کی جانب سے خیرمقدم

اسلام آباد، 01 اگست 2026 (کامران راجہ): پاکستان نے غزہ امن منصوبے کے تحت اسلحے کے خاتمے کے عمل پر بورڈ آف پیس کے تحت ہونے والی حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی جانب ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم قرار دیا ہے۔ پاکستان نے اس پیش رفت کے حصول میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک، جن میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ شامل ہیں، کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی سفارتی کاوشوں کی خصوصی تعریف کی۔ پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت بورڈ آف پیس کے لیے ایک اہم کامیابی کی حیثیت رکھتی ہے۔

پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ان مثبت پیش رفتوں کے بعد غزہ امن منصوبے کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر مؤثر اور عملی انداز میں عملدرآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ خطے میں امن کے قیام اور اعتماد سازی کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ پاکستان نے اپنے دیرینہ اور اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سفارتی کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی راہ ہموار کریں گی۔ پاکستان کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک قابلِ اعتماد، جامع اور مقررہ مدت پر مبنی سیاسی عمل ناگزیر ہے، جو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور عالمی قانونی اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔پاکستان نے ایک بار پھر اپنے اس غیرمتزلزل مؤقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام میں ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔