Tuesday, August 4

عبداللہ شفیق کی ناقابلِ شکست 160 رنز کی شاندار اننگز، پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میں 43 رنز کی برتری حاصل

 

کوئینز پارک اوول، 4 اگست 2026 (نوشین): پاکستان کے اوپنر عبداللہ شفیق نے شاندار اور ناقابلِ شکست 160 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں 43 رنز کی اہم برتری دلوا دی۔ پاکستان نے تیسرے روز کھانے کے وقفے کے بعد 333 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ سے اپنی اننگز دوبارہ شروع کی اور مزید 54 رنز کا اضافہ کرکے 115 اوورز میں 387 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگیا۔ عبداللہ شفیق 323 گیندوں پر 160 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کی دلکش اننگز میں 15 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے، جس نے پاکستان کی اننگز کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ عبداللہ شفیق کو ساجد خان کی جانب سے بھی عمدہ ساتھ ملا، جنہوں نے 72 گیندوں پر 30 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ دونوں نے ساتویں وکٹ کے لیے 59 رنز کی شراکت قائم کی، جسے جےڈن سیلز نے ساجد خان کو کیچ آؤٹ کرکے ختم کیا۔

بعد ازاں علی عثمان نے 21 گیندوں پر 10 رنز بنائے، تاہم وہ بائیں ہاتھ کے اسپنر جومیل واریکن کا شکار بن گئے۔ واریکن نے پاکستان کی آخری تین وکٹیں بھی حاصل کیں، جن میں عبید شاہ اور محمد علی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے جومیل واریکن سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے 46 اوورز میں 112 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔ شمر جوزف نے 2 جبکہ جےڈن سیلز نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔ اس سے قبل تیسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی اننگز 266 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی، جہاں کپتان بابر اعظم اور عبداللہ شفیق کریز پر موجود تھے۔ تاہم دونوں کے درمیان غلط فہمی کے باعث برینڈن کنگ کی براہِ راست تھرو پر بابر اعظم 147 گیندوں پر 88 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔ ان کی اننگز میں 10 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔

بابر اعظم کی وکٹ کے بعد پاکستان کو مزید دو فوری نقصان اٹھانا پڑے، جب ڈیبیو کرنے والے اویس ظفر اور سلمان علی آغا مختصر وقفے میں پویلین لوٹ گئے، جس سے پاکستان کا اسکور 286 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ ہوگیا۔ محمد رضوان نے 18 رنز کی اننگز کھیلی، لیکن وہ بھی واریکن کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ دوسری جانب عبداللہ شفیق نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو پہلی اننگز میں قیمتی برتری دلائی۔ 43 رنز کی برتری اور میچ پر مضبوط گرفت کے ساتھ پاکستان اب دوسرے ٹیسٹ کے فیصلہ کن مرحلے میں اپنی برتری مزید مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔