
انقرہ، 21 اکتوبر 2026 (غفران): ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ سہ فریقی دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کے لیے پارلیمان سے منظوری حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ حکمران جماعت کے ایک رکنِ پارلیمان نے بدھ کے روز خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اس حوالے سے باضابطہ اجازت کی درخواست مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق سے متعلق قانون کی پارلیمان سے منظوری کے بعد پیش کی جائے گی۔ تینوں ممالک نے یہ معاہدہ اگست میں کیا تھا، جبکہ ترکیہ نے منگل کے روز اسے پارلیمانی توثیق کے لیے پیش کیا، جس سے تینوں شراکت داروں کے درمیان باہمی دفاعی تعاون کو باضابطہ شکل دینے کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔ ترکیہ کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب بھیجے جانے والے ترک فوجی اہلکار کسی بھی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔ ابتدائی طور پر ان کی تعیناتی کا مقصد تکنیکی معاونت، فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگی ٹیکنالوجی اور دیگر دفاعی صلاحیتوں میں تعاون فراہم کرنا ہوگا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کو سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، جن میں یمن کی حوثی تحریک سے منسوب حملے بھی شامل ہیں۔ ترکیہ نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی دفاعی ضروریات میں معاونت کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس سے قبل آنے والی اطلاعات کے مطابق ترکیہ کا تعاون بنیادی طور پر فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور ہتھیاروں کے نظام تک محدود رہنے کا امکان تھا، تاہم تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تکنیکی عملے اور دفاعی ماہرین کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا ایک مشترکہ فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ معاہدے کی شقوں کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ تمام فریقین نے اپنے دستیاب وسائل اور صلاحیتوں کے مطابق ایک دوسرے کی مدد کرنے کا عہد کیا ہے۔ معاہدے میں رکن ممالک کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ اس کے تحت کسی حملے کی صورت میں حالات کا جائزہ لے کر مشاورت کے ذریعے معاونت کی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا اجتماعی دفاعی اصول شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے، یعنی نیٹو، کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ ردعمل کا انحصار معاہدے کی شقوں اور شریک ممالک کے فیصلوں پر ہوگا۔ رواں ماہ ریاض میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کے دوران تینوں ممالک نے سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ فوجی تعیناتی کے علاوہ اس معاہدے میں دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، رسد، انسدادِ دہشت گردی اور آپریشنل رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون بھی شامل ہے۔ ترکیہ کی جانب سے فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی اجازت حاصل کرنے کا مجوزہ اقدام سہ فریقی دفاعی تعاون پر عمل درآمد کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد متعلقہ پارلیمانی منظوری سے مشروط ہے۔