Friday, September 25

سعودی مفتی اعظم کی حوثیوں کے خلاف فوج کو دفاع کے لیے تیار رہنے کی ہدایت

Saudi Grand Mufti Urges Troops to Defend Kingdom Amid Rising Houthi Attacks

نیویارک، 25 ستمبر 2026 (نوشین): سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ صالح الفوزان نے یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں سعودی فوجی اہلکاروں کو ملک کے دفاع کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مفتی اعظم نے سعودی سرحدوں کی حفاظت پر مامور فوجیوں اور یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں اتحاد کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی حفاظت اور جارحیت کے خلاف دفاع کو اہم ذمہ داری قرار دیا۔ دوسری جانب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت کے باعث انسانی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں 10 فیصد سے بھی کم صحت مراکز زخمیوں کو مطلوبہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں ایک ناکارہ اسرائیلی ڈرون کا معائنہ کرتے ہوئے دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جو کئی ماہ بعد غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی پہلی ہلاکتیں ہیں۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ ’انروا‘ بھی غزہ میں انسانی امدادی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاہم مستقبل میں اس کے کردار پر اختلافات برقرار ہیں۔ انروا کے سابق سربراہ فلپ لازارینی کے مطابق فلسطینی حکام اب بھی ادارے کے ساتھ تعاون کو اہم سمجھتے ہیں۔ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کی، جس میں علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔