Thursday, October 22

ریاض میں سعودی قیادت والے اتحاد نے ڈرون مار گرایا، آرامکو کا ظہران ہیڈکوارٹر خالی کرنے کا حکم

Saudi-Led Coalition Intercepts Drone in Riyadh as Aramco Evacuates Dhahran Headquarters

اسلام آباد، 22 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): سعودی قیادت والے اتحاد نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی سکیورٹی تشویش کے دوران ریاض کے علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ڈرون مار گرانے کی تصدیق کی، تاہم اس کے ماخذ یا ممکنہ ہدف کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔ دوسری جانب سعودی تیل کمپنی آرامکو نے ظہران میں اپنے ہیڈکوارٹر کے ملازمین کو عمارت خالی کرنے اور گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس معاملے سے واقف چھ ذرائع کے مطابق کمپنی نے یہ اقدام کیا، تاہم آرامکو نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ اس سے قبل سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے بتایا تھا کہ بدھ کی شام دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک سعودی شہری اور ایک بھارتی شہری شامل تھے، جبکہ زخمیوں کو معمولی سے شدید نوعیت کے زخم آئے۔ حکام کے مطابق نقصان کا جائزہ لیا جا رہا تھا، تاہم ایئرپورٹ پر آپریشن بحال ہو چکے تھے اور فضائی آمدورفت معمول پر آ گئی تھی۔ ایک الگ واقعے میں سعودی فضائی دفاعی نظام نے مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ڈرون کو بھی روک لیا۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق ڈرون کے ملبے سے تنصیب کی حدود سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں دو غیر ملکی شہری ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق فلپائن اور نیپال سے تھا، جبکہ زخمیوں میں پاکستانی اور بھارتی شہری شامل تھے۔ حکام نے بتایا کہ اس واقعے سے آئل فیلڈ کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں اور متعلقہ اداروں نے ضروری اقدامات کیے۔ ادھر امریکہ نے بڑھتی ہوئی سکیورٹی تشویش کے پیش نظر سعودی عرب سے بعض غیر ہنگامی سفارتی اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو واپس جانے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ یمن کی حوثی تحریک سے منسوب سعودی عرب میں شہری اہداف پر حملوں کے بعد کیا گیا۔ چار امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ خلیجی خطے کے دیگر ممالک میں امریکی سفارتی مشنز بھی بعض اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو روانہ ہونے کی ہدایت دیں گے، تاہم فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ یہ انخلا یمن میں لڑائی میں اضافے کے دوران سامنے آیا ہے، جس سے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پھیلنے والے وسیع تر علاقائی تنازعے میں مزید پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ اس تنازعے نے عالمی توانائی کی تجارت کو متاثر کیا ہے اور خلیجی معیشتوں پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔ دوسری جانب یمنی فوج نے بتایا کہ حوثی فورسز نے صوبہ حضرموت کے دارالحکومت مکلا میں واقع الریان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو چند گھنٹوں کے دوران چوتھی مرتبہ نشانہ بنایا۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل ماجد النزیلی کے مطابق ایئرپورٹ پر مسلسل حملوں کا مقصد یمنی آبادی کی ناکہ بندی کرنا ہے۔ حوثی تحریک نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تازہ واقعات نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں، جبکہ سفارتی اہلکاروں کے انخلا سے خطے میں پھیلتے ہوئے تنازعے کے بارے میں عالمی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔