
اسلام آباد، 22 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے، جبکہ یوکرین نے رات کے دوران ماسکو کی جانب سیکڑوں ڈرون بھیجے، دونوں ممالک نے تنازع کے خاتمے کے لیے امریکہ کی تازہ سفارتی کوششوں کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ روس کے ساتھ مذاکرات، جو فروری کے بعد پہلی مرتبہ ہوں گے، نومبر کے اوائل میں شروع ہو سکتے ہیں۔ یوکرین کے مطابق روس نے تین مرحلوں میں کم از کم 21 بیلسٹک میزائل داغے، جبکہ روس نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے رات کے دوران ماسکو کی جانب 630 ڈرون بھیجے۔ دریں اثنا، دونوں ممالک نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کا تبادلہ کیا۔ بیلاروس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بیلٹا کے مطابق روس نے 252 لاشیں یوکرین کے حوالے کیں، جبکہ یوکرین نے روس کو 25 لاشیں واپس کیں۔ یہ تبادلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ تیز ہو رہی ہیں۔ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے رواں ہفتے اوسلو میں زیلنسکی، یورپی رہنماؤں اور نیٹو حکام سے ملاقات کی، جس کے بعد انہوں نے سفارتی عمل میں کچھ پیش رفت کی نشاندہی کی۔ تاہم کریملن نے تازہ تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ امریکہ نے مذاکرات میں بعض نئے پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے، لیکن یہ روس کے لیے مکمل طور پر قابل قبول نہیں ہیں۔ روس نے کہا ہے کہ وہ اگلے ماہ امریکہ کی ثالثی میں یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق ملاقات مختصر رہی اور اس میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی، جبکہ امریکی نمائندے نے اوسلو میں تیار کردہ تجاویز پیوٹن کے جائزے کے لیے پیش کیں۔ کریملن کے قریب ایک ذریعے کے مطابق امریکی تجاویز میں ایک ایسا ممکنہ منصوبہ بھی شامل تھا جس کے تحت یوکرین پورا ڈونباس علاقہ روس کے حوالے کر دے گا اور اس کے بدلے نیٹو کی جانب سے مستقبل کی سلامتی کی ضمانت حاصل کرے گا۔ روس بارہا مطالبہ کر چکا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کے تحت یوکرین مزید علاقے چھوڑے، اپنی فوجی صلاحیتوں کو محدود کرے اور مستقل طور پر فوجی اتحادوں میں شامل نہ ہونے کی ضمانت دے۔ تاہم یوکرین نے ان شرائط کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان سے ملکی خودمختاری متاثر ہوگی اور مستقبل میں روسی حملوں کے مقابلے میں یوکرین غیر محفوظ ہو جائے گا۔ مذاکرات کی بحالی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے باوجود میزائل اور ڈرون حملوں کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنازع کے پُرامن حل کی راہ میں اب بھی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں۔