
اسلام آباد، 20 اکتوبر 2026 (غفران): روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کی پیشکش کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کے جلد خاتمے اور سرحدی گزرگاہوں کی بحالی کی امید ظاہر کی ہے۔ پاکستان اور روس کے تعلقات کے موضوع پر انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے روسی سفیر البرٹ پی خورایف نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردوں کی دراندازی کی اطلاعات اور سرحدی بندشوں کے علاقائی تجارت پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ دوسری جانب روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے روسی وزیر داخلہ کے حالیہ دورۂ پاکستان کے تناظر میں اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان انسدادِ دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتے ہوئے سیاسی روابط کو عملی تعاون میں تبدیل کیا جائے تاکہ تجارت، طلبہ کی آمدورفت اور علاقائی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔ سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تعلیمی اور عوامی سطح پر تعلقات مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ویزا سہولتوں، براہِ راست پروازوں اور بینکاری و ادائیگیوں سے متعلق رکاوٹوں کے حل کو ترجیحی اقدامات قرار دیا۔ انہوں نے دوطرفہ کاروباری فورم کی تیاریوں، کاروباری اداروں کے درمیان پیشگی ملاقاتوں اور ایران، افغانستان اور چین کے راستے نقل و حمل کے روابط پر بھی روشنی ڈالی۔ فیصل نیاز ترمذی نے جامعات کے درمیان شراکت داری، طلبہ کے تبادلوں اور سائنس، انجینئرنگ اور زراعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت اجاگر کی، جبکہ روسی زبان کی تعلیم، ثقافتی تبادلوں اور دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ اور تخلیقی شعبوں کے درمیان قریبی روابط کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔