لاہور، 13 ستمبر 2026 (نوشین): پنجاب حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے صوبے بھر میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے انتہائی حساس رپورٹس موصول ہوئی تھیں، جن میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے عوامی اجتماعات اور ریلیوں کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ نوٹیفکیشن کے تحت عوامی مقامات، سڑکوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ جلوس، عوامی اجتماعات، دھرنے اور مظاہرے بھی ممنوع ہوں گے۔ عوامی مقامات پر ہر قسم کے اسلحے کی نمائش اور اسے لے کر چلنے پر بھی پابندی ہوگی۔ غیر قانونی اجتماعات، ریلیوں یا مظاہروں میں شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانے یا ترغیب دینے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ داخلہ نے واضح کیا کہ مساجد اور دیگر عبادت گاہوں، نماز جنازہ، تدفین اور شادی کی تقریبات پر ان پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔ عدالتیں، سرکاری دفاتر اور انتظامیہ کی باضابطہ اجازت یا این او سی کے بعد منعقد ہونے والی تقریبات بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اہلکار بھی پابندی سے مستثنیٰ رہیں گے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ان اقدامات کا مقصد ممکنہ ناخوشگوار واقعات کی روک تھام اور پنجاب بھر میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔
