Monday, November 2

خیبرپختونخوا کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے گورنر راج ضروری تھا، وزیراعظم شہباز شریف

Governor’s Rule Necessary to Prevent Further Damage to KP: PM Shehbaz Sharif

اسلام آباد، 31 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے گورنر راج اور ہنگامی اقدامات ضروری تھے، ان کا الزام ہے کہ 2019 اور 2020 کے دوران افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ فیصلہ مشکل حالات میں عوام، صوبے اور ملک کے معاشی و سماجی استحکام کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کو پاکستان کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے وہاں کے عوام کی بہادری، وقار اور دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا، 2013 کے عام انتخابات کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے جمہوری اصولوں کا احترام کرتے ہوئے اکثریتی جماعت کو صوبائی حکومت بنانے کا موقع دیا تھا۔ گزشتہ 13 برس سے صوبے میں حکمرانی کرنے والی جماعت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ اس عرصے میں کتنی یونیورسٹیاں اور اسپتال قائم کیے گئے، ان کے مطابق عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوام کے مسائل بدستور حل طلب ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس، مسلح افواج اور سیاسی قیادت نے بھاری جانی اور معاشی نقصانات برداشت کیے۔ انہوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے معصوم بچوں کی شہادت کو ملکی تاریخ کے دردناک ترین واقعات میں سے ایک قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں نواز شریف کی قیادت میں مشترکہ کوششوں کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پایا تھا، تاہم ان کے بقول 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کی واپسی اور آبادکاری نے دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس نئے سکیورٹی خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اپیل کی تھی، تاہم ان تجاویز پر مطلوبہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ شہباز شریف نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو فراہم کیے جانے والے مالی وسائل کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کے لیے ایک فیصد اضافی حصہ مختص کیا گیا تھا اور اس انتظام کے تحت خیبرپختونخوا کو 800 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ وزیراعظم نے سوال کیا کہ ان وسائل سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور کیا صوبائی محکمہ انسداد دہشت گردی کو مؤثر طور پر مضبوط بنایا گیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں پولیس کی تقریباً پانچ ہزار آسامیاں خالی ہیں، جبکہ دستیاب وسائل کو پولیس اہلکاروں کی بھرتی، جدید اسلحے کی فراہمی اور بہتر تربیت پر خرچ کیا جانا چاہیے تھا۔