نیویارک، 22 ستمبر، 2026 (نوشین): ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے نئے قائم ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے طویل بحران کی بنیاد پر اس دفاعی اتحاد کی کارکردگی کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں کیونکہ ’’ہم نے تو ابھی آغاز کیا ہے۔‘‘ نیویارک میں ’’ترکیہ اور امریکا تعلقات: صد سالہ دور میں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پینل میں حاقان فیدان سے سوال کیا گیا کہ یمن میں حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے کیا مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا امتحان نہیں اور اس اتحاد نے اس امتحان میں کیسی کارکردگی دکھائی ہے۔ سابق امریکی سفیر برائے ترکیہ جیمز جیفری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فیدان نے ان سے پوچھا کہ وہ فوج میں کب شامل ہوئے تھے، جس پر جیفری نے بتایا کہ انہیں فوج میں شامل ہوئے تقریباً 50 برس ہو چکے ہیں۔ فیدان نے پھر سوال کیا کہ اس عرصے کے دوران نیٹو کے آرٹیکل 5 کو کتنی مرتبہ فعال ہوتے دیکھا گیا، جس پر جواب دیا گیا کہ صرف ایک مرتبہ۔ فیدان نے کہا کہ نئے قائم ہونے والے دفاعی اتحاد کو یمن کے 10 سالہ بحران کی مثال دے کر ناکام قرار دینا منصفانہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان ایک دوسرے کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ فیدان کے مطابق ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اس سلسلے میں ایک روڈ میپ موجود ہے اور معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے بعد دیگر ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کے دروازے کھلے ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ دفاعی معاہدے پر گزشتہ پانچ سے چھ برس سے غور کیا جا رہا تھا اور متعلقہ ممالک کو اس پر آمادہ کرنے میں وقت لگا۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کے ممالک نے علاقائی تعاون اور یکجہتی کی اہمیت کو سمجھا ہے۔
