
اسلام آباد، یکم نومبر 2026 (غفران): بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اتوار کو ہزاروں افراد نے اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مارچ میں شرکت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ووٹر فہرستوں میں متنازع تبدیلیوں کے معاملے پر استعفے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی اور انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس (انڈیا) کے دیگر رہنماؤں کی قیادت میں احتجاجی مارچ سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت تاریخی رام لیلا میدان کی جانب روانہ ہوا۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ ووٹر فہرستوں میں کی گئی تبدیلیوں کا مقصد وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانا ہے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے انتخابی عمل میں شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ متعدد مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ اقلیتی برادریوں سمیت اہل ووٹرز کے نام بلاجواز انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے ہیں۔ ایک خاتون مظاہرہن نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے خاندان کے چار افراد کے نام اس بنیاد پر فہرست سے نکال دیے گئے کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر منتقل ہو چکے ہیں، حالانکہ وہ طویل عرصے سے اپنے ہی پتے پر مقیم ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کسی سیاسی جماعت کی حمایت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلطی سے خارج کیے گئے ووٹرز دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں، جبکہ بی جے پی نے اپوزیشن پر انتخابی عمل پر بلاجواز سوالات اٹھا کر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بھارتی وزیر صحت جگت پرکاش نڈا نے احتجاج کو سیاسی طور پر منظم مہم قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کا مقصد ملک میں انتشار پیدا کرنا ہے۔ یہ مظاہرہ ستمبر کے اواخر سے جاری احتجاجی سلسلے کا حصہ ہے، جو ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل نظام سے متعلق انتخابی حکام کے تحفظات کی میڈیا رپورٹس کے بعد شروع ہوا تھا۔ گزشتہ سال شروع ہونے والے اس عمل کے دوران مبینہ طور پر 13 کروڑ سے زائد نام ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے، جن میں 2 کروڑ 80 لاکھ فوت شدہ، 6 کروڑ 30 لاکھ نقل مکانی کرنے والے اور 3 کروڑ ایسے افراد شامل تھے جن کا سراغ نہیں مل سکا۔ اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ ان تبدیلیوں سے مسلمان ووٹرز اور دیگر اقلیتی برادریاں زیادہ متاثر ہوئی ہیں، تاہم الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتے ہوئے احتجاج اور اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی حمایت نے نریندر مودی کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج پیدا کر دیا ہے، تاہم ان کی حکومت مستحکم ہے اور بھارت میں اگلے عام انتخابات 2029 میں متوقع ہیں۔