Sunday, October 18

ایک سال کے دوران پاکستان کے 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار ہوئے، یونیسف

UNICEF Reports 1.5 Million Pakistani Children Faced Online Sexual Abuse in a Year

لندن، 18 اکتوبر 2026 (غفران): اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال (یونیسف) نے انکشاف کیا ہے کہ ایک سال کے دوران پاکستان کے تقریباً 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار ہوئے، جس کے بعد ادارے نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کو یقینی بنائیں۔ یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کو آن لائن پلیٹ فارمز تک غیر محدود رسائی دینے سے گریز کیا جائے اور ان کی مؤثر نگرانی کی جائے۔ ادارے کے مطابق متاثرہ بچوں میں سے 57 فیصد نے شرمندگی، اہل خانہ کے ردعمل کے خوف اور سماجی بدنامی کے خدشات کے باعث اپنے تجربات کسی کو نہیں بتائے۔ یونیسف نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کے بڑھتے ہوئے خطرے کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق آن لائن ہراسانی کے رپورٹ شدہ واقعات میں سے 44 فیصد کا تعلق سوشل میڈیا سے تھا، جبکہ متاثرہ بچوں کی جانب سے بیان کیے گئے 85 فیصد واقعات میں مبینہ ملزم ان کا جاننے والا تھا۔ رپورٹ میں بچوں کو نامناسب تصاویر اور پیغامات بھیجنا، ان سے نجی تصاویر طلب کرنا، تصاویر پھیلانا اور بلیک میل کرنا آن لائن جنسی استحصال کی بڑی اقسام قرار دی گئی ہیں۔ یونیسف نے پاکستان کے قانونی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے، تحقیقات کے عمل کو بہتر بنانے اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ شکایات درج کرانے کے لیے محفوظ اور آسان ذرائع فراہم کیے جائیں تاکہ بچے خوف کے بغیر استحصال کی اطلاع دے سکیں اور انہیں مناسب تحفظ اور معاونت حاصل ہو سکے۔