
واشنگٹن، 18 اگست 2026 (نوشین): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا ہے کہ ایران اس نوعیت کے معاہدے پر رضامند نہیں ہوگا جسے وہ امریکا کے ساتھ تنازع ختم کرنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بدستور تعطل کا شکار ہیں۔اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس تنازع میں بنیادی طور پر اس مقصد کے لیے شامل ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’وہ اس نوعیت کا معاہدہ نہیں کریں گے جسے میں ضروری سمجھتا ہوں۔ دیکھیں، ہم صرف ایک وجہ سے وہاں ہیں: ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوسکتا۔‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا واشنگٹن ایران کے ساتھ عبوری معاہدے میں توسیع کا خواہاں ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے میں ’’تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے‘‘ پر زور دیا گیا تھا، تاہم یہ انتظام جلد ہی ختم ہوگیا۔ ٹرمپ نے 7 جولائی کو اسے ’’ختم‘‘ قرار دیا، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے ایک ہفتے بعد اعلان کیا کہ معاہدہ ’’معطل‘‘ کردیا گیا ہے۔مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران اور امریکا نے وسیع تر معاملات، بشمول ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل، پر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات 60 دن کے اندر مکمل کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی۔ پیر کو یادداشت پر دستخط کیے جانے کے 60 دن مکمل ہوگئے۔اس سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے فون پر فاکس نیوز کے ایک رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو ’’سفید جھنڈا لہرا کر ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔‘‘
دوسری جانب عمان اور ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی گزرتی تھی۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر عمان نے امریکی مقاصد کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تو واشنگٹن فوجی کارروائی کرے گا۔ بعد ازاں اوول آفس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عمان سے اپنا صبر کھو چکے ہیں تو ٹرمپ نے کہا کہ عمان نے اچھا رویہ اختیار نہیں کیا، تاہم امریکا اس سے باآسانی نمٹ سکتا ہے۔آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر تنازع نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ان انتخابات کے ذریعے امریکی کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات ایران کے حوالے سے ان کی حکمت عملی پر اثر انداز نہیں ہورہے۔ انہوں نے کہا، ’’وسط مدتی انتخابات کا میری سوچ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘اس سے قبل پیر کو ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا کہ امریکا کا ’’نمبر ون مقصد‘‘ ہمیشہ یہی رہے گا کہ ایران کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ انہوں نے اس مؤقف کو ایک بار پھر جنگ کے اپنے بیان کردہ جواز کے طور پر پیش کیا۔