Thursday, October 1

ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز پر حملے کا دعویٰ، امریکہ نے مسترد کر دیا

CAIRO, 06 September, 2026 (Kamran Raja) — Iran on Sunday claimed that it had struck an unmanned U.S. vessel attempting to enter the Strait of Hormuz, a claim strongly rejected by the U.S. military as a “total lie.” The alleged attack came a day after the U.S. military said its forces had struck three Iranian oil tankers in response to attacks targeting U.S. Navy warships with ballistic missiles. Experts described the developments as a dangerous escalation that could further threaten international commercial shipping and global energy supplies. The conflict began with U.S. and Israeli strikes on Iran on February 28, and although a fragile ceasefire was announced in June, intermittent fighting has continued amid stalled negotiations. The United States and Iran resumed attacks last week following a month of relative calm, with the Strait of Hormuz and Iran’s southern coastal areas again emerging as major areas of confrontation. U.S. Energy Secretary Chris Wright said around nine million barrels of oil per day were still passing through the Strait of Hormuz, helping ease pressure on global energy prices. He said oil was also moving through regional pipelines, with total flows estimated at around two-thirds or more of pre-conflict levels. However, the continued movement of tankers depends partly on the presence of the U.S. Navy, which has been escorting vessels and providing protection against possible Iranian attacks. Wright said he expected other countries to eventually contribute to efforts to safeguard shipping through the strategic waterway. Meanwhile, Iran’s nuclear program remains a central issue in the conflict, with negotiations collapsing shortly after the United States and Iran signed a memorandum of understanding in June. Diplomats say the United States, Britain, France and Germany are seeking to refer Iran to the United Nations Security Council over alleged failures to meet its nuclear nonproliferation obligations. The Strait of Hormuz remains a critical global energy route, and any prolonged disruption could threaten international oil and natural gas supplies and push energy prices higher worldwide.

قاہرہ، 6 ستمبر 2026 (کامران راجہ) — ایران نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک بغیر پائلٹ امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’’مکمل جھوٹ‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ مبینہ حملہ ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس کی فورسز نے امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنائے جانے کے جواب میں تین ایرانی آئل ٹینکروں پر حملہ کیا۔ ماہرین نے ان واقعات کو خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں مسلسل حملوں سے عالمی تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے ہوا تھا، جبکہ جون میں ایک نازک جنگ بندی کے اعلان کے باوجود مذاکرات میں تعطل کے باعث وقفے وقفے سے لڑائی جاری رہی۔ امریکہ اور ایران نے گزشتہ ہفتے ایک ماہ کی نسبتاً کشیدگی کے بعد دوبارہ حملے شروع کیے، جس کے دوران آبنائے ہرمز اور ایران کے جنوبی ساحلی علاقے ایک بار پھر کشیدگی کا مرکز بن گئے۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اتوار کو کہا کہ روزانہ تقریباً 90 لاکھ بیرل تیل اب بھی آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے، جس سے عالمی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائپ لائنوں کے ذریعے بھی تیل کی ترسیل جاری ہے اور مجموعی ترسیل جنگ سے قبل کی سطح کے تقریباً دو تہائی یا اس سے زیادہ تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم، ٹینکروں کی محفوظ آمدورفت کے لیے امریکی بحریہ کی موجودگی اہم ہے، جو جہازوں کو حفاظتی حصار فراہم کرنے کے ساتھ ممکنہ ایرانی حملوں سے بچاؤ میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔ رائٹ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ دیگر ممالک بھی اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں میں امریکی بحریہ کا ساتھ دیں گے۔ دوسری جانب ایران کا جوہری پروگرام تنازع کا ایک اہم مرکز بدستور برقرار ہے، جبکہ جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔ سفارت کاروں کے مطابق امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی مبینہ خلاف ورزی پر معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور اس میں طویل عرصے تک رکاوٹ سے عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے ساتھ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔