Sunday, September 27

ایران مذاکرات یا محاذ آرائی، دونوں کے لیے یکساں طور پر تیار ہے، عراقچی

Iran Equally Ready for Talks or Confrontation, Araghchi Says

تہران، 27 ستمبر, 2026 (غفران): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات اور محاذ آرائی، دونوں کے لیے یکساں طور پر تیار ہے، تاہم تہران نے سفارت کاری کا راستہ ترک نہیں کیا۔ ایک امریکی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران کو واشنگٹن کی جانب سے اس کی تجویز مسترد کیے جانے پر حیرت ہوئی، تاہم وہ سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، خواہ اس کے نتیجے میں تباہ کن جنگ ہی کیوں نہ ہو، اور اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ تہران تنازع ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے کے تحت اہم آبی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کے لیے بھی تیار ہے، تاہم اس کے بدلے ایران اپنے منجمد اثاثوں اور رقوم کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے، جو ان کے بقول نئے مطالبات نہیں اور امریکا پہلے ان سے اتفاق کر چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے کوئی تشویش نہیں بلکہ اس کی توجہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ پر ہے۔ عراقچی نے واضح کیا کہ سفارت کاری اب بھی ایک راستہ ہے، تاہم آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کا فیصلہ واشنگٹن کو کرنا ہوگا۔