
دبئی، 13 اگست 2026 (کامران راجہ): ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاق اڑاتے ہوئے ان اطلاعات پر طنز کیا ہے کہ ترکیہ کے دورے کے دوران انہیں خفیہ طور پر ایئر فورس ون سے ایک چھوٹے سرکاری طیارے میں منتقل کیا گیا، کیونکہ خدشہ تھا کہ صدارتی طیارے کو کندھے سے فائر کیے جانے والے میزائل سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔معاملے سے باخبر ایک شخص کے مطابق امریکی سیکرٹ سروس نے ممکنہ میزائل حملے کی اطلاع ملنے کے بعد ٹرمپ کو چھوٹے سرکاری طیارے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ ٹرمپ کے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دورے کے آخری روز پیش آیا، جبکہ جاری امریکی ایران جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے اس واقعے کو ٹرمپ کے لیے باعثِ ’’شرمندگی‘‘ قرار دیتے ہوئے طیارہ تبدیل کیے جانے کو ایران کی فوجی طاقت کے حوالے سے امریکی خدشات کا ثبوت قرار دیا۔رپورٹس کے مطابق خطرے کو قابلِ اعتبار اور فوری نوعیت کا سمجھا گیا، جس کے بعد سیکرٹ سروس نے امریکی صدر کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے۔
نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امریکی حکام اس وقت مزید تشویش میں مبتلا ہوگئے جب انہیں معلوم ہوا کہ ایرانی ذرائع کو انقرہ میں ٹرمپ کی رہائش گاہ، حتیٰ کہ ہوٹل کی منزل کے بارے میں بھی معلومات تھیں۔ایرانی حکام نے ان الزامات یا طیارہ تبدیل کیے جانے کے واقعے پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس سے بھی دفتری اوقات کے بعد فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔دریں اثنا، تہران بھر میں لگائے گئے بل بورڈز اور دیواروں پر بنائے گئے خاکوں میں ٹرمپ اور اسرائیل کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان میں ٹرمپ کو تابوت میں لیٹے اور سمندر میں ڈوبتے ہوئے دکھانے والی تصاویر بھی شامل ہیں۔ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے گزشتہ ماہ اپنے والد اور پیشرو کی ہلاکت کے بعد انتقام لینے کا عزم بھی ظاہر کیا تھا۔ ان کے والد جنگ کے پہلے روز ہلاک ہوئے تھے۔رپورٹ ہونے والے اس سکیورٹی واقعے سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جاری تنازع کے دوران اعلیٰ امریکی حکام کو درپیش سکیورٹی خدشات کی شدت نمایاں ہوتی ہے۔