Thursday, August 13

ایران، امریکا تنازع میں پاکستان کے اہم اور تعمیری کردار کو ناروے کی جانب سے سراہا گیا

اسلام آباد، 13 اگست 2026 (غفران): پاکستان اور ناروے نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں کیا گیا۔ایسپن بارتھ ایدے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے، جو ایک دہائی میں کسی نارویجن وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، بحری امور اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں ممالک نے ناروے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا اور عوامی سطح پر روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔دونوں فریقوں نے پاکستان اور ناروے کے درمیان دوستانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔مذاکرات میں علاقائی اور عالمی صورتحال، خصوصاً حالیہ ایران، امریکا تنازع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ناروے کے وزیر خارجہ نے تنازع کے دوران امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے اہم اور تعمیری کردار کو سراہا اور وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو بھی سراہا۔ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں ناروے کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ناروے پاکستان کے ساتھ مضبوط  شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور امن و مذاکرات کے فروغ کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ انہوں نے ناروے میں پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ایسپن بارتھ ایدے نے کہا کہ پاکستان اور ناروے کے درمیان تجارتی تعلقات میں توسیع ہو رہی ہے، خصوصاً توانائی اور کھاد کے شعبوں میں ناروے کی کمپنیوں کی پاکستان میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے سوئٹزرلینڈ اور آئس لینڈ کے تعاون سے پاکستان کے اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے ممکنہ مواقع کی بھی نشاندہی کی۔

علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ناروے کے وزیر خارجہ نے جاری تنازع کو عالمی امن اور عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں مذاکرات کی سہولت کاری اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ناروے پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت کے لیے تیار ہے، کیونکہ اوسلو کو ثالثی کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور تہران و واشنگٹن دونوں کے ساتھ اس کے رابطے موجود ہیں۔ناروے کے وزیر خارجہ نے بین الاقوامی بحری قوانین اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر بھی ناروے کی مہارت پیش کرنے کی پیشکش کی، جبکہ بحری امور میں ناروے کے وسیع تجربے کو اجاگر کیا۔دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور پاکستان اور ناروے کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔