
جکارتہ، 21 اگست 2026 (نیوز ڈیسک): انڈونیشیا اور چین نے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے دوران دفاعی تعاون بڑھانے اور خوراک، توانائی اور معدنی سلامتی کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی، بحری اور عوامی روابط سمیت دوطرفہ تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ وانگ یی نے کہا کہ دونوں ممالک نے اپنی ترقی اور سکیورٹی کی ترجیحات پر بہتر رابطہ کاری کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کی جدید کاری کے عمل کو مضبوط تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے یکطرفہ دباؤ اور طاقت کی سیاست کی مخالفت کرتے ہوئے بین الاقوامی انصاف، مساوات اور ترقی پذیر ممالک کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے قومی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے صنعتوں کی ترقی کے ذریعے خوراک، توانائی اور معدنی سلامتی کو بہتر بنانے پر بھی بات چیت کی۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت، مواصلاتی سیٹلائٹس اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون بھی متوقع ہے۔ سوگیونو نے کہا کہ انڈونیشیا اور چین نے تجارت کو آسان بنانے، نئی منڈیوں کی تلاش اور انڈونیشیا کی اہم برآمدی اشیا کے لیے مارکیٹ تک رسائی بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
دریں اثنا، انڈونیشیا کے وزیر دفاع سجفری شمس الدین اور چین کے وزیر دفاع ڈونگ جون نے الگ ملاقات میں دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے، دفاعی سازوسامان، اہلکاروں کی تربیت اور دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ سجفری شمس الدین نے کہا کہ انڈونیشیا نے چینی مسلح افواج کو مشترکہ فوجی مشقوں، بالخصوص ’ہیپنگ گارڈا‘ مشق میں شرکت کی دعوت دی ہے، جو دونوں ممالک کی افواج کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی عملی مثال ہے۔حالیہ برسوں میں انڈونیشیا اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 167 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔چین انڈونیشیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس نے جکارتہ-بانڈونگ ہائی اسپیڈ ریلوے اور مغربی جاوا میں سیراٹا فلوٹنگ سولر پاور منصوبے سمیت بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔منصوبوں کی لاگت اور تکمیل کے اوقات پر بعض اختلافات کے باوجود چین نے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت انڈونیشیا میں بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی حمایت جاری رکھی ہے۔