
کیف، 15 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): یوکرین نے روس کی تیل صاف کرنے والی ریفائنریوں پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں، جس کے باعث کیف اور واشنگٹن کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ سے متعلق پالیسی پر کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ روسی حکام اور یوکرین کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق، جمعرات کی صبح یوکرینی ڈرونز نے ماسکو سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع روس کے علاقے ریازان میں ایک ریفائنری کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ حملہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے مختصر جنگ بندی ختم ہونے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد کیا گیا۔ زیلنسکی نے ماسکو پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے دونوں فریقوں کو حملے روکنے کی اپیل کے باوجود یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یوکرین کے تیل تنصیبات پر حملوں کو صدر ٹرمپ کے لیے براہِ راست چیلنج قرار دیا، جبکہ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے روسی ریفائنریوں پر حملے کبھی بند نہیں کیے۔ زیلنسکی نے مغربی انٹیلی جنس معلومات تک رسائی میں مبینہ پابندیوں اور امریکی ساختہ اسٹارلنک مواصلاتی نظام کے استعمال میں مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان اقدامات سے یوکرین کی دفاعی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان روسی ڈیزل کی درآمد سے متعلق معاہدے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے روس کو یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ برطانوی صحافی پیئرز مورگن کو انٹرویو دیتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ انہیں حالیہ امریکی فیصلوں سے دھچکا پہنچا ہے اور یوکرین ایک مضبوط شراکت دار سے محروم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
ادھر زیلنسکی لندن کے دورے کے بعد برسلز میں یورپی یونین کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے، جہاں انہیں برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم کی جانب سے مزید امداد کی یقین دہانیاں بھی حاصل ہوئیں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے یوکرین کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ روکنے کے لیے جارحیت کرنے والے فریق پر دباؤ ڈالنا چاہیے، نہ کہ متاثرہ ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ دوسری جانب یوکرین کے ہنگامی امدادی اداروں کے مطابق، وسطی یوکرین کے علاقے کیروووہراڈ میں روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔ زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ روس نے رات کے دوران یوکرین پر 850 سے زائد ڈرون داغے اور 15 علاقوں کو نشانہ بنایا۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق، فضائی دفاعی نظام نے 536 روسی ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا، تاہم 31 مقامات پر حملوں کے اثرات ریکارڈ کیے گئے۔ زیلنسکی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یوکرینی میزائل نے جنوب مغربی روس کے ایک ہوائی اڈے پر چھ روسی فوجی طیارے تباہ کر دیے۔ دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے رات کے دوران 166 یوکرینی ڈرونز مار گرائے، جبکہ روسی افواج نے فوجی سامان لے جانے والے دو بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔ تازہ حملوں سے خطے میں جنگی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں اور یوکرین کے لیے امریکی حمایت کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔