Monday, August 3

امریکہ اور ایران کے درمیان آج مذاکرات کا آغاز متوقع، ٹرمپ نے فوجی کارروائی مؤخر کر دی

واشنگٹن، 3 اگست 2026 (کامران راجہ): امریکہ اور ایران کے درمیان آج (پیر) مذاکرات کا آغاز متوقع ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مجوزہ بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی مؤخر کرتے ہوئے سفارتی حل کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات پیر کی سہ پہر شروع ہوں گے، تاہم انہوں نے مذاکرات کے مقام یا شرکاء کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی حملہ علاقائی اتحادی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی درخواست پر مؤخر کیا، جبکہ ایران کی جانب سے بھی سفارتی ذرائع کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ منصوبہ بند کارروائی دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ کی سب سے بڑی فوجی کارروائی ہوتی، جو ایران کے فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتی تھی اور اس کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مذاکرات میں دو اہم امور زیرِ غور آئیں گے، جن میں آبنائے ہرمز کی سلامتی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدہ شامل ہے، جسے انہوں نے “ایران کی غیر جوہری حیثیت” (غیر جوہری بنانے کا عمل) قرار دیا۔ امریکی صدر نے مزید بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی فوجی کارروائی سے گریز کا مشورہ دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اس سے خطے میں عدم استحکام، انسانی بحران اور دیگر غیر متوقع نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی 28 فروری کو اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے۔ بعد ازاں مختلف سفارتی کوششوں کے نتیجے میں عارضی طور پر حالات میں بہتری آئی، تاہم جنگ بندی کے سابقہ معاہدے، جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق تجاویز بھی شامل تھیں، کامیاب نہ ہو سکے اور دونوں جانب سے دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دوسری جانب ایران نے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر الگ الگ رابطے کیے، جن میں خطے کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق تہران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق بحری انتظامات پر مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات صرف ایک نئے بحری راستے کے تعین سے متعلق ہیں اور ان کا آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں۔ اسرائیل کے وزیر توانائی ایلی کوہن نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان خطے کی صورتحال پر قریبی سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون جاری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائل پروگرام کو دوبارہ آگے بڑھانے کی کوشش کی تو اسرائیل فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے سفارتی، اقتصادی اور فوجی آپشنز پر غور کیا گیا۔ ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے یہ مذاکرات عالمی برادری کی گہری توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، کیونکہ ان کے نتائج مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، عالمی توانائی منڈیوں اور دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔