Monday, August 17

امریکا نے لاطینی امریکا میں منشیات فروش گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا

US Expands Military Campaign Against Drug Groups in Latin America

میکسیکو، 17 اگست، 2026 (غفران) — امریکا نے لاطینی امریکا میں منشیات فروش گروہوں کے خلاف اپنی فوجی مہم کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ایسے معاہدوں کے حصول کے لیے کوشاں ہے جن کے تحت امریکی افواج خطے کے اتحادی ممالک میں زمینی سطح پر مشترکہ فوجی کارروائیاں کر سکیں گی۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ کولمبیا، گوئٹے مالا اور ہونڈوراس نے اپنی سرزمین پر جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف امریکا کے ساتھ مشترکہ فوجی کارروائیوں کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایکواڈور کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں مارچ میں امریکی افواج کے ساتھ اسی نوعیت کے مشترکہ مشن شروع کیے گئے تھے۔ تاہم گوئٹے مالا نے ایسے کسی معاہدے تک پہنچنے کی تردید کی ہے۔ پاناما میں ایک فوجی مشق کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا مشتبہ منشیات فروش تنظیموں کے خلاف اپنی کارروائیوں کو سمندری آپریشنز سے زمینی کارروائیوں تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ اقدام لاطینی امریکا میں واشنگٹن کی سکیورٹی حکمت عملی میں نمایاں توسیع قرار دیا جا رہا ہے اور مغربی نصف کرہ میں امریکی اثر و رسوخ مضبوط کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔امریکی فوج کئی دہائیوں سے لاطینی امریکا میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کے لیے علاقائی حکومتوں کو اسلحہ، انٹیلی جنس اور تربیت فراہم کرتی رہی ہے۔ تاہم امریکی افواج کی بڑھتی ہوئی تعیناتی پر ناقدین نے شہری ہلاکتوں، قومی خودمختاری اور امریکا کے خلاف ردعمل کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ناقدین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی امریکی فوجی موجودگی امریکا اور لاطینی امریکی ممالک کے درمیان پہلے سے موجود غیر مساوی تعلقات کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ علاقائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مقامی فورسز کے ساتھ امریکی فوج کی مستقل جنگی کارروائیاں سابقہ سکیورٹی تعاون کے مقابلے میں ایک بڑی تبدیلی ہوں گی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی انتظامیہ نے لاطینی امریکا کے حوالے سے زیادہ مداخلت پسندانہ پالیسی اختیار کی ہے۔ واشنگٹن نے متعدد جرائم پیشہ تنظیموں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا ہے اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔امریکی فوج نے کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں مبینہ طور پر منشیات منتقل کرنے والی کشتیوں کے خلاف بھی متعدد حملے کیے ہیں۔ ان کارروائیوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی دعوؤں کے شواہد اور حملوں کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کو زمینی سطح تک توسیع دینے سے قومی خودمختاری اور خطے میں امریکی فوجیوں کی موجودگی سے متعلق خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔تازہ پیش رفت لاطینی امریکا میں منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف امریکی کوششوں کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم اس سے واشنگٹن کے ان حکومتوں اور عوام کے ساتھ تعلقات بھی آزمائش میں پڑ سکتے ہیں جو خطے میں بڑھتی ہوئی امریکی فوجی مداخلت کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں۔