
یروشلم، 24 اگست 2026 (نوشین): اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں متنازع آبادکاری منصوبے کو آگے بڑھا دیا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ ہاؤسنگ نے یروشلم کے قریب E1 کے علاقے میں ایک ہزار 200 سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے بولیاں طلب کرلی ہیں۔ منصوبے کا مقصد مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان اسرائیلی بستیوں کا ایک مسلسل بلاک قائم کرنا ہے۔ ناقدین کے مطابق مجوزہ آبادکاری سے مغربی کنارہ شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہوسکتا ہے جبکہ مشرقی یروشلم بھی فلسطینی علاقوں کے باقی حصے سے الگ ہوجائے گا، جس سے ایک جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام مزید مشکل ہوجائے گا۔ تعمیراتی منصوبے کے لیے بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ اکتوبر کے آخر میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل مقرر کی گئی ہے۔ اسرائیلی آبادکاری پر نظر رکھنے والی تنظیم ’’پیس ناؤ‘‘ نے اس اقدام کو حکومت کی مدت کے اختتام پر کیا جانے والا آخری لمحے کا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تنازع اور عدم استحکام مزید طویل ہوسکتا ہے۔ اسرائیل نے کئی برس تک عالمی دباؤ اور شدید بین الاقوامی تنقید کے باعث E1 علاقے میں منصوبہ بندی اور تعمیرات کو مؤخر کیے رکھا تھا۔ تاہم وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی موجودہ حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاری کے منصوبوں اور منظوریوں کے عمل کو تیز کردیا ہے۔
کینیڈا، آسٹریلیا اور جرمنی سمیت متعدد مغربی ممالک پہلے ہی کمپنیوں کو مغربی کنارے اور E1 میں آبادکاری کی تعمیر میں حصہ لینے سے خبردار کرچکے ہیں اور ممکنہ قانونی و ساکھ سے متعلق نتائج کی نشاندہی کرچکے ہیں۔فرانس، جرمنی، اٹلی، برطانیہ، ناروے، کینیڈا اور نیدرلینڈز کے رہنماؤں نے بھی E1 منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینی معیشت پر عائد پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منصوبے کو آگے بڑھانے کے فیصلے کو ’’ناقابل قبول اور تباہ کن اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ دو ریاستی حل کو تباہ کرنے والے اقدامات کو قبول نہیں کرے گا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے برطانوی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں کہ یہودی اپنے تاریخی وطن میں کہاں رہ سکتے ہیں۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔ اس کے باوجود حالیہ برسوں میں غیر مجاز آبادکار چوکیوں میں توسیع جاری رہی ہے، جن میں سے بعض کو بعد میں اسرائیلی حکام کی منظوری بھی مل گئی۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے E1 میں تعمیرات آگے بڑھانے کے فیصلے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کو روکا جائے۔مصر نے بھی اسرائیلی ٹینڈرز کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ آبادکاری میں توسیع اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی و آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔